اندور، 29؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ملک کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ نیا نہیں ہے اور کیندریہ ودیالیہ بھی اسی مسئلہ سے دو چار ہیں۔آر ٹی آئی سے معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر میں پھیلے 1100سے زیادہ کیندریہ ودیالیوں میں اساتذہ کے 21فیصد منظور شدہ عہدے خالی پڑے ہیں۔مدھیہ پردیش کے نیمچ کے رہائشی سماجی کارکن چندر شیکھر گوڑ نے آج میڈیاکو بتایا کہ ان کی آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں کیندریہ ودیالیہ تنظیم (کے وی ایس )نے یکم جون تک کی صورت حال کے مطابق یہ معلومات دی ہے۔مرکزی حکومت کے انسانی وسائل کے فروغ کی وزارت کے تحت آنے والا کے وی ایس ملک بھر میں کیندریہ ودیالیوں کو چلاتا ہے۔کے وی ایس کی جانب سے گوڑ کو 23؍جون کو بھیجے گئے جواب میں بتایا گیا کہ کیندریہ ودیالیہ میں پرائمری سطح سے لے کر ہائر سکینڈری سطح تک اساتذہ کے کل 41149عہدے منظور شدہ ہیں۔ان میں سے 32370عہدوں پر ہی تقرری کی گئی ہیں اور باقی 8779عہدے خالی پڑے ہیں، یعنی ان اسکولوں میں اساتذہ کے تقریبا 21فیصد منظورشدہ عہدے خالی پڑے ہیں۔کے وی ایس نے آر ٹی آئی عرضی کے جواب میں بتایا کہ کیندریہ ودیالیوں میں پرائمری اساتذہ کے14856عہدے منظور ہیں جن میں سے 11849عہدوں پر اساتذہ کام کر رہے ہیں اور باقی 3007عہدے خالی پڑے ہیں۔کیندریہ ودیالیہ میں تربیت یافتہ گریجویٹ ٹیچر (ٹی جی ٹی )کے 15972منظور شدہ عہدوں کے مقابلے 11995عہدوں پر اساتذہ کی تقرری کی گئی ہے اور باقی 3977عہدے خالی پڑے ہیں۔کیندریہ ودیالیوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹیچر (پی جی ٹی ) کے 10321عہدے منظور ہیں، لیکن ان عہدوں پر 8526اساتذہ ہی کام کر رہے ہیں اور باقی 1795عہدے خالی پڑے ہیں۔اس درمیان، آل انڈیا کیندریہ ودیالیہ ٹیچرس ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ایم بی اگروال نے کہا کہ ان کی تنظیم کے وی ایس پر مسلسل دباؤ ڈال کر مطالبہ کر رہی ہے کہ کیندریہ ودیالیوں میں اساتذہ کے خالی پڑے عہدوں کو جلد سے جلد بھرا جائے۔اگروال نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کیندریہ ودیالیوں میں اساتذہ کے خالی عہدوں میں سے 25فیصد عہدے بھرجائیں گے۔